New shayari urdu font love 2017


  • #تجھے دیکھا ایک نظر ہم نے ہوش پا لیا ،
  • اپنی پلکوں میں تیرا آغوش پا لیا ،
  • ہم درد کو پیتے ہیں تیرا درد سمجھ کر ،
  • آنکھوں نے چھلكنے کا جوش پا لیا ..
  • ........................................................
  • دل کو چبھتے ہوئے موسم بھی بھا گئے ہیں،
  • جب سے تم نے پھر میرے نزدیک آ گئے ہیں
  • موسمے بہار سے میں نے کر لیا ہے کنارا،
  • جب پھول ہی پھول میرے دل میں چھا گئے ہیں.
  • .......................................................
  • تو روٹھي روٹھي سی رہتی ہے اے زندگی ،
  • کوئی ترکیب بتا تجھے منانے کی ،
  • میں ساںسے گروی رکھ دوں گا اپنی ،
  • بس تو قیمت بتا مسکرانے کی ..
  • ......................................................
  • ان کا بھی کبھی ہم دیدار کرتے ہیں،
  • ان سے بھی کبھی ہم محبت کرتے ہیں،
  • کیا کرے جو ان ہماری ضرورت نہ تھی ،
  • پر پھر بھی ہم ان انتظار کرتے ہیں
  • ....................................................
  • اٹھ - اٹھ کے بیٹھ کر راتوں کا حال ہے ،
  • دن ایک گزر جاتا ہے جیسے ایک سال ہے،
  • پھر بھی نہ ہو اس بات کا یقین میری آنکھوں سے پوچھ لو،
  • جب سے گئے ہو آج تک گیلے رومال ہے.
  • ........................................................
  • آپ کو بتا تو مجھے کس بات کی سزا دیتے ہو.
  • مندر میں آرتی اور محفل میں شما کہتے ہو .
  • میری قسمت میں بھی کیا ہے علامت (لوگو) ذرا دیکھ لو،
  • آپ یا تو مجھے بجھا دیتے ہو یا پھر جلا دیتے ہو
  • ..........................................................
  • تھوڑا شوقین ہوں، تھوڑا ڈر رہا ہوں.
  • تیرے آنے کا انتظار کر رہا ہوں.
  • اچھال کر کے سکے خوابوں کا.
  • میں اپنی قسمت کو پڑھ رہا ہوں
  • ...........................................................
  • اس کے چہرے پر اس قدر نور تھا،
  • کہ اس کی یاد میں رونا بھی منظور تھا،
  • بے وفا بھی نہیں کہہ سکتے اس کو ظالم ،
  • محبت تو ہم نے کیا ہے وہ تو بے قصور تھا







  • dosti shayari urdu,urdu shayari muhabbat,girl dosti shayari urdu pic,faraz dosti shayari,urdu poetry dosti,urdu sher dosti,dosti ki shayari,funny dosti shayari,dosti shayari,dosti shayari. urdu font,shayari urdu font latest,bestt shayari urdu sad,New shayari urdu ghalib,dosti shayari urd,

Comments